افق بلوچ افسانچہ برائے مقابلہ


 عید مبارک صنفِ آہن

از قلم: اُفُق بلوچ

سانولی سی رنگت والی اکیس سالہ زینب بی۔اے کرنے کے بعد کسی باعزت نوکری کی تلاش میں تھی۔ سفید پوش طبقہ خود بھی باعزت ہوتا ہے تو نوکری بھی باعزت تلاش کرتا ہے۔ دادا جی نے ہمیشہ سبق دیا "بیٹا جی، بھوکے سوجانا مگر ہاتھ نہ پھیلانا"۔ کچھ پرائیویٹ سکولوں میں سات آٹھ ہزار میں استانی رہی لیکن جہاں آٹا لینا ہی مشکل ہو وہاں چند ہزار روپے میں گزارا بھلا کیسے ممکن تھا۔ شام کو ٹیوشن بھی پڑھاتی مگر ٹیوشن پڑھوانے والے تو جیسے الٹا اسی پر احسان کرتے تھے اپنے بچے اس کے پاس بھیج کر۔ دو دو ماہ بعد فیس دیتے وہ بھی احسان جتا کر۔
 ایم۔اے پرائیویٹ کے ساتھ ساتھ وہ مختلف جگہوں پر نوکری کےلیے کوششیں کر رہی تھی۔
ایک دن اسے اپنی ایک پرانی دوست سنبل کی کال موصول ہوئی جس کی والدہ ایک بہت بڑے سکول میں سینئیر ٹیچر تھیں، وہاں نہ صرف بہت اچھی نوکری کا موقع تھا بلکہ پک اینڈ ڈراپ کی سروس بھی موجود تھی۔ 
چونکہ زینب کے پاس مختلف Experience Letters تھے تو اسے فوراً 50 ہزار روپے ماہانہ پر منتخب کرلیا گیا تھا۔
اپنی ازلی محنت سے اس نے وہاں بہت اچھا کام کیا۔ ایم۔اے کے بعد وہ اسے مستقل اپنے ہاں جاب دینے کے خواہشمند تھے۔
نوکری کے پہلے ماہ اس نے ٹیوشن پڑھایا لیکن پھر چھوڑ دیا کیوں کہ اب اس کے پاس سکول کا کام ہی بہت ہوجاتا تھا اور وہ اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اپنی پہلی تنخواہ سے اس نے راشن اور کچھ دوسری ضروری چیزیں خریدی تھیں۔ وہ گھر میں موجود واحد بزرگ دادا جی کےلیے نیا سوٹ اور شال لینا نہیں بھولی تھی۔
رمضان کےلیے اس کی پرنسپل نے اسے اپنی طرف سے بیس ہزار اضافی دیے تھے۔
"تم بہت زیادہ محنت اور لگن سے کام کرتی ہو، میں یہ اپنی خوشی سے تمھیں دے رہی ہوں، میری طرف سے شاباشی سمجھ لو۔" وہ بہت شفیق اور رحم دل تھیں۔
اس بار رمضان میں پورے مہینے کےلیے کھجور خریدی گئی اور سب کو ایک یا آدھی کھجور کے بجائے تین تین کھجوریں ملی تھیں۔
پندرہ رمضان کو اس کی پرنسپل نے اسے اپنے پاس بلا کر پچاس ہزار عیدی دی تھی تاکہ وہ اپنے اور گھر والوں کے لیے کپڑے لے کر سلوا بھی سکے۔
"میرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں تمھیں اپنی بہو بنانا خوش قسمتی سمجھتی لیکن تم میری پانچویں بیٹی ہو۔ کبھی یہ مت سمجھنا کہ میں تم پر کوئی احسان کر رہی ہوں۔ میری بڑی بیٹی زینب مجھے بےحد عزیز تھی اور آزمائش عزیز ترین چیز کی طرف سے ہی آتی ہے۔ وہ بھی تمھاری طرح بہت محنتی تھی۔" وہ نم آنکھوں کے ساتھ زینب کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بتانے لگیں۔ زینب خاموشی سے انھیں دیکھے گئی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ان سے پوچھ سکتی کہ پیاری زینب کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
"سات سال پہلے اس کی شادی ہونے والی تھی لیکن وہ شاپنگ پر جاتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں چلی گئی۔ اس کی شادی کا سارا سامان ابھی تک پڑا ہے۔ اس کا کمرہ اتنے سالوں سے بند پڑا ہے، میری کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی وہاں جانے کی۔ میں خود کو مصروف رکھ کر جیسے بھاگ رہی ہوں۔ لیکن اب میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنی زینب کے سارے خواب تم پر پورے کروں۔ کیا تم مجھے یہ موقع دو گی؟"
زینب نے نم آنکھوں سے سر اثبات میں ہلادیا۔
***
رمضان بہت اچھا گزر رہا تھا۔ پہلے وہ جو سحری و افطاری بناتی تھی، اس بار اماں نے اسے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیا۔
مہنگائی آسمان پر تھی مگر اب الحمدللہ ان کا چولہا ٹھنڈا نہ ہوتا تھا۔ انھوں نے روکھی سوکھی کھاکر اللہ کا شکر ادا کیا تھا تو اللہ نے بھی ان کے شکر کے بدلے ان کو بےشمار نعمتوں سے نوازا تھا کیوں کہ اللہ کا وعدہ ہے:
"اور جب تمھارے پروردگار نے تمھیں آگاہ کردیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بےشک میں تمھیں زیادہ دوں گا۔" (ابراهيم:7)
حالات اللہ بدلتا ہے مگر انسان کا رویہ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک انسان جس کے پاس نعمتوں کا ڈھیر ہو اور وہ کسی ایک چیز کے پیچھے بھاگنے پر اپنی نعمتوں کو بھول جائے اور رب سے شکوہ کرے تو وہ دل کے سکون اور خوشی سے محروم رہتا ہے۔ 
اور شیطان کا سب سے بڑا ٹارگٹ ہی یہی ہے کہ وہ انسان کو ناشکرا بنائے:
"پھر انسانوں کو آگے سے' پیچھے سے' دائیں سے' بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیروں گا (اور اپنی راہ پر ڈال دوں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا۔" (الاعراف:17)
اس رمضان انھوں نے اللہ کا جتنا شکر ادا کیا تھا اتنا شاید زندگی میں کبھی نہ کیا کیوں کہ یہ پہلا رمضان تھا جب ہر دن ان کے گھر سحری وافطاری بنتی تھی۔ اس سال فطرانہ کےلیے ایک صاع گندم کی قیمت تقریباً 250 روپے تھی لیکن انھوں نے 300 ادا کیا تھا۔ جب رب نے ان کو بہت زیادہ عطاء کیا تھا تو کیا وہ چند روپے زائد نہیں ادا کر سکتے تھے۔ انھوں نے مسجد کے امام کو بھی عید پر تحفہ دیا اور مسجد میں تکمیلِ تراویح کے اہتمام پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
پہلی بار چاند رات پر ان کے گھر میں سب کو مہندی لگ رہی تھی۔ اور پہلی بار عیدالفطر پر سب نے ہمسائیوں کو بھی سویاں بھجوائیں اور خود بھی جی بھر کر کھائیں۔
عصر کے وقت وہ نماز سے فارغ ہوئی تو اماں نے اسے کسی کے آنے کی اطلاع دی۔ وہ باہر آئی تو اپنی پرنسپل کو سامنے دیکھ کر جہاں حد درجہ حیران ہوئی وہیں بے انتہاء خوش بھی ہوئی۔ پرنسپل نے اسے سینے سے لگایا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر کہا:
"عید مبارک صنفِ آہن۔۔۔"

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں