اقصی اعجاز افسانچہ برائے مقابلہ
مقابلہ عنوان : "عید مبارک صنف آہن"
تحریر :اقصی اعجاز
الفاظ کی تعداد: 760
بھابی نے غصے میں صرف رامیہ کی بیٹی کا ہاتھ نہیں جھٹکا تھا بلکہ اسے کچھ سال پیچھے دھکیل دیا تھا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ارسل کے جانے کے بعد اس کی زندگی اس طرح کی گزرے گی قیامت کا تو ایک دن مقرر ہے لیکن یہ جو روز اس پر قیامت آ جاتی تھی اس سے نکلنے کے لیے اب اس کو کوئی نہ کوئی کوشش کرنی ہوگی یہ ہی سوچتے سوچتے جانے کب آنکھ لگ گئی۔
دروازہ کسی نے زور زور سے پیٹ ڈالا اور ساتھ ہی ایک کرخت عورت کی آواز آئی اور دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا اتنے میں بھابھی کی آواز گونجی صبح ہی صبح منہ اٹھا کر جو مانگنے چلی آتی ہو کام کیوں نہیں کرتی؟ کوئی ہنر سیکھ لو اور اپنا گھر چلاؤ دوبارہ جو تم نے دروازہ پیٹا تو میں باہر آ کر تمہیں پیٹوں گی۔
بھابھی کی ہنر والی بات سنتے ہی ایک خیال اس کے دماغ میں آیا برسوں پہلے ایف اے کرنے کے بعد جب اس نے شوق سے سلائی سیکھی تھی تب کسی نے مبارک باد دی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر یہ ہنر تمہیں رنگ لگا دے گا آج ان کی یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی۔
جہیز میں دی گئی سلائی مشین اس کے پاس موجود تھی اس نے سلائی مشین کو نکالا صاف کر کے چلائی تو وہ بالکل ٹھیک تھی۔
اتنی آزمائش کے بعد وہ اپنا ہنر آزمانے چلی تھی اللہ کا نام لے کر ہمسائی کی طرف گئی اور ان کو کہا اگر کوئی سلائی کرنے والے کپڑے ہیں تو مجھے دے دیں میں آپ کو بہت اچھے سلائی کر دوں گی اس نے انکار کیا اور کہا کے ابھی تو میں اپنی درزن کو دے چکی ہوں دوبارہ کوئی لوں گی تو تمہیں دے دوں گی ویسے تم اپنے سلائی کئے ہوئے کچھ سیمپل دکھاؤ میں اور لوگوں کو بھی دکھاؤں گی تاکہ وہ تم سے کپڑے سلوا لیں وہ دو سالوں میں رامیہ کے حالات جانتی تھی۔
تین دن گزر چکے تھے کوئی بھی کپڑا سلائی کرنے نہیں آیا تھا اس نے خود سے سیمپل تیار کرنے کا سوچا ٹرنک میں سے کچھ اچھے کپڑے مل گئے اس نے چھوٹی بچیوں کی فراک اور چند کرتے سی لیے بھابی نے سلائی مشین کی آواز سن کر منہ بنایا اور کہا کہ اب تنگ کرنے کا نیا ذریعہ ڈھونڈ لیا ہے۔رامیہ بس اداسی سے خاموش بیٹھی رہی اس نے اپنی ہمسائی کو سیمپل دکھائے اور اسی طرح دو تین گھروں میں اور جا کر بھی سلائی کے کام کا بولا ایک گھر میں اس کو بہت اچھی عورت ملی اس نے اس سے پوچھا تم یہ فراک کتنے کی بیچو گی رامیہ حیران رہ گئی کسی نے اس کے سلی ہوئی فراک کی قیمت پوچھی تھی اس نے خوشی بھرے لہجے میں کہا کہ آپ اپنی رضامندی سے جتنے کی مرضی لے لیں اس عورت نے رامیہ کو چار سو روپیہ دیا یہ اس کی کی پہلی کمائی تھی۔
اس نے اس سے کچھ اور ضرورت کی چیزیں خریدیں اب وہ یہ کام روکنا نہیں چاہتی تھی۔
آپ کوئی بھی کام نیک نیتی اور لگن سے شروع کرو تو اللہ پاک مدد گار ہوتا ہے تین مہینوں میں رامیہ کے پاس کپڑوں کا بہت رش لگ چکا تھا۔
عید میں صرف دس دن باقی تھے اور اس کی پوری کوشش تھی کہ عید سے پہلے پہلے وہ سارے کپڑوں کا کام ختم کر لے اور سب کو خوشی سے عید مبارک بولے۔
جب سے رامیہ نے گھر میں کچھ پیسے دینے شروع کیے تو بھابھی کا رویہ بھی بدل گیا انہوں نے اس کے لئے ایک کمرہ خالی کیا تاکہ رامیہ یہاں پر اپنی چھوٹی سی بوتیک بنا سکے یہ رامیہ کے لیے بھابی کی طرف سے بہت بڑا سرپرائز تھا بھابی نے اس کمرے کو اچھا سا سیٹ کیا تھا اور رامی بوتیک کے نام کی تختی بھی لگا دی تھی
بھابھی بہت اچھی تھیں بس جب سے رامی بیوہ ہوکر ایک بیٹی لیے گھر میں آئی تھی تو کمر توڑ مہنگائی اور حالات کی وجہ سے ان کا رویہ بہت خشک ہو گیا تھا چار بچوں کے ساتھ ایک کمانے والا تھا لیکن اب تو سب کچھ ٹھیک تھا رامیہ اللہ پاک کا شکر ادا کرتی تھی کے اللہ نے اسے ہمت اور مرتا کیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کا سہارا بنے ۔
اس عید پر بھابھی نے خاندان والوں کو بلایا اس سے عید کی خوشی بھی دوبالا ہو جاتی اور سب کو رامی بوتیک کے بارے میں پتہ چل جاتا۔
رامیہ نے اپنی محنت اور لگن سے ثابت کیا تھا کہ صنف نازک کو صنف آہن ہونا چاہئے تاکہ زندگی خوش حال رہے اس نے اپنے مضبوط قدم سے بہت سی عورتوں کے لیے مثال قائم کی۔
ختم شد

💓💓💓
جواب دیںحذف کریں