طاہرہ کشف افسانچہ برائے مقابلہ
افسانچہ: عید مبارک صنف آہن*
افسانچہ نگار: طاہرہ کشف، مانگا منڈی،لاہور
گھر کے کونے میں بیٹھی وہ یوں ہی سوچتی رہی، اور خود کو ہزارہا دلاسے دل ہی دل میں دیتی رہی، کہ بے شک وہ رب جسے چاہے حلال رزق سے نوازتا ہے۔ وہ یوں ہی رب سے ہمہ گفتگو تھی کہ رب میرےگھر والوں کے لیے میرے ننھے بچوں کے لیے اس عید کو سب کی طرح عید بنا دینا۔ انہیں اس بات کا احساس نہ ہو کہ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔ کہ اتنے میں اس کا خاوند گھر میں داخل ہوا اور کہا بیگم پریشان مت ہو مجھے کام مل گیا ہے میں کام پر جا رہا ہوں آج کے دن جو پیسے ملیں گے بچوں کے کپڑے خرید لیں گے، حوریا نے یہ سنتے ہی ایک طرف تو اللہ کا شکر ادا کیا لیکن دوسری جانب اسے بچوں کے کھانے پینے کے لیے فکر تھی کہ کھانے کا انتظام کیسے
کیا جائے،
حوریا کو اللہ تعالیٰ نے کپڑے سلائی کرنے کے ہنر سے نوازا تھا ، لیکن کسی کو اس بات کا محلے میں علم نہیں تھا، حوریا اللّٰہ پر بھروسہ رکھتے اور دعا مانگتے ہوئے اٹھی اور خود کو عبایا میں لپیٹا اور اپنی ہمسائی کے گھر اسے ملنے کے لیے گئی جو کہ اس گھر میں چند دنوں پہلے آئے تھے ، باتوں باتوں میں ہمسائی نے کہا باجی کوئی کپڑے سلائی کرتا ہو تو بتا دیں ہمارے گھر والوں کے سب کے کپڑے سلائی ہونے والے ہیں ہم یہاں نئے آئیں ہیں تو کسی کا کچھ پتا نہیں ۔ حوریا کی یہ بات سنتے ہی خوشی کی انتہا نہ رہی اور کہا باجی میں خود بہت اچھے کپڑے سلائی کر لیتی ہوں، یوں باجی نے اسے اپنے سب گھر والوں کے کپڑے سلائی کر نے کے لیے تھما دئیے اور کچھ رقم بھی بطورِ نقد دے دی۔ حوریا گھر آئی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسنے کپڑے سلائی کرنے شروع کر دیئے ، چاند رات کو وہ باجی جب خود اپنے کپڑے لینے حوریا کے گھر آئی اور اس نے جب دیکھا کے کپڑے بہت ہی اچھے طریقے سے سلائی کر کے رکھے گئے ہیں تو اسے بہت خوشی ہوئی اور اس نے حوریا کا بہت شکریہ ادا کیا ۔ باجی کو حوریا کے معصوم بچوں کے چہروں سے اندازہ ہوا کہ حوریا کے گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں تو اس نےکپڑوں کی سلائی کے ساتھ حوریا کو بہن بناتے ہوئے عیدی سے نوازا ، اور اس کے بچوں کو بھی عیدی دی جس سے ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ شام کو حوریا کا خاوند نے بھی اپنے سارے دن کی محنت سے جو پیسہ کمایا اس سے اپنے بچوں کے کپڑے اور بیوی کے لیے کچھ خریدا جس سے حوریا کی خوشی دوبالا ہوتی جا رہی تھی اور وہ رب کا بہت شکر ادا کر رہی تھی کہ یا اللّٰہ تو نے ہمیں حلال رزق سے نوازا ہے۔ حوریا نے اپنے کمائے گئے پیسوں سے بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان خریدنے کے لیے اپنے خاوند کو بھیجا جسے دیکھتے خاوند نے حوریا کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے صبر کا دامن نہ چھوڑا اور رب سے حلال رزق کی دعا کی اور اپنے ہاتھوں سے نیک اور حلال پیسہ کمایا ، اور خوشی میں بچوں کو بوسا دے کر بازار کو چل دیا۔سامان خرید کر جب بچوں کا باپ واپس آیا تو بچے کھانے پینے کا سامان دیکھ کر اپنے باپ سے چپٹنے لگے اور پوچھنے لگے ، کہ یہ ہم عید پر بنائیں گے، بچوں کے اس سوال نے حوریا اور اس کے خاوند کے دل میں خوشی کے ساتھ غم کی لہر بھی دوڑائی ، پھر حوریا
نے کہا جی بیٹا یہ ہم عید پر بنائیں گے اور ہمسایوں میں بانٹیں گے اور خود کھائیں گے۔یہ سن کر بچے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے ہم جائیں گے نہ ماما بانٹنے کے لیے چیزیں ،
حوریا نے پیار بھرے لہجے میں بچوں کا صبر ، ہمت اور اپنے ہمسایوں کے لیے ولولہ دیکھتے ہوئے کہا جی بیٹا ضرور اور سب کو محبت بھرا بوسہ دیا۔ جس سے
بچے بھی بہت خوش ہوئے اور خوشی میں اچھلتے کودتے ایک دوسرے کو عید مبارک عید مبارک کہنے لگے۔
مانگ تو رب سے ،دے گا بہت تجھے
یہ عید ہے خوشی دے گا بہت تجھے
کر تو صبر مشکل پر صبر ہی صبر
پھر مانگ رب سے دے گا بہت تجھے
دوبالا کرے گا خوشی تیری کشف
مانگ رزق حلال دے گا بہت تجھے

اچھی تحریر ہے
جواب دیںحذف کریں