ہانیہ محمود افسانچہ برائے مقابلہ


 عید مبارک صنف آہن:

"ابا! مان جائیں ناں۔ لڑکی کی کمائی حرام تھوڑی ہوتی ہے۔ مجھے کمانے دیں۔ میں آپ لوگوں کے ذہنی سکون کا باعث بننا چاہتی ہوں۔"
عید کے موقع پر آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے پیشِ نظر سفید پوش شفیق صاحب کی منجلی بیٹی صالحہ نے ہمت نہ ہارتے ہوئے, کوئی دسویں بار ذمے داریوں کے بوجھ تلے دبے اپنے والد کو منانا چاہا۔ صالحہ ایک باہمت لڑکی ہے, جو اپنے ماں باپ کا بوجھ بانٹ کر, عید کی خوشیوں کو ان کے گلے لگا کر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننا چاہتی ہے۔ جبکہ اس کے والد بیٹی کی کمائی کو خود کی مردانگی پر داغ تصور کیے ہوئے ہیں۔
"میری دھی! تو صنف نازک ہے۔ گھر کی چوکھٹ کے اس پار بہت سے اتار چڑھاؤ ہیں, جو تجھ جیسی نازک کلی کو مرجھا دیں گے۔"
 شفیق صاحب نے صالحہ کو سمجھانا چاہا۔ 
"اور اگر وہی اتار چڑھاؤ مجھے صنف نازک سے صنف آہن بنا دیں تو....... تو پھر اگر میرے سوہنے رب نے چاہا, تو دیکھنا میں بہت سی صنف نازک کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔"
صالحہ نے شفیق صاحب کو ایک نئی سوچ کی راہ دکھائی۔
"ابا! ابا! عید آنے والی ہے۔ پر ابھی تک ہمارے نئے کپڑے نہیں آئے۔"
صالحہ کی سب سے چھوٹی بہن حمنہ جو ابھی ابھی اپنی محلے والی سہیلیوں کے ساتھ کھیل کر آئی تھی۔ اور آتے ہی اپنے ابا کی گود میں بیٹھ گئی۔ اور ساتھ ہی ساتھ عید کے نئے کپڑوں کی بھی فرمائش کر ڈالی۔
شفیق صاحب اپنی ننھی گڑیا کی آنکھوں میں عید کی تیاروں کے لیے جلتے دیے دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بڑھتے رہے گئے۔ وہ جانتے تھے, کہ واحد ان کی کمائی اولاد کی خوشیوں کو برقرار رکھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ 
صالحہ نے پھر سے شفیق صاحب کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھا, کہ شاید ابا مان جائیں۔ اور پھر وہ سفر شروع کر سکے, صنف نازک سے صنف آہن بننے تک کا۔ 
"ٹھیک ہے, تم کوشش کر کے دیکھ لو۔"
شفیق صاحب نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صالحہ کے ہاتھ میں اجازت نامہ پکڑا دیا۔ اور صالحہ نے دیکھا تھا, اس کے ابا کی آنکھوں میں ایک ڈر تھا, عجیب سا ڈر شاید معاشرے میں اس بدنامی کا ڈر جو بیٹی کی کمائی کھانے سے ہوتی ہے۔ 
صالحہ نے صرف میٹرک کیا ہوا تھا۔ اور صرف اتنی تعلیم میں وہ کوئی اچھی جاب نہیں کر سکتی تھی۔ اس لیے اس نے "ڈیکوریشن آئیڈیاز اینڈ ٹھیمز" کا اپنا چھوٹا سا بزنس شروع کیا۔ اس کو ہمیشہ سے سجاوٹ کرنے کا اور اس کے متعلق نت نئے طریقے تجویز کا شوق رہا تھا۔ اور اب اس نے اپنے شوق کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ چونکہ رمضان کے مہینے میں لوگ بنسبت دوسرے فنکشنز کے افطار پارٹیز پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس لیے اُس نے اپنی کچھ وفادار سہیلیوں کے ساتھ مل کر افطار پارٹیز کی سجاوٹ اور تھیمز کے کام کا آغاز کیا۔ اور اس کی ایک سہیلی کے توسط سے اسے ایک گھر میں اپنے کام کا لوہا منوانے کا عندیہ دے دیا گیا۔ اس نے نہایت دل جمعی سے اور ہمت سے اپنے پہلے آرڈر کے لیے محنت کی اور اس کی محنت اور جذبے کے باعث اللہ رب العزت نے اسے انعام سے نواز دیا۔ اس کا پہلا آرڈر کامیاب گیا۔ اور اُس نے اس آرڈر سے ملنے والے پیسوں کو اپنے گھر کی خوشیوں کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
"صالحہ باجی! یہ فراک کتنی اچھی ہے... میں اپنی دوستوں کو دکھا کر آتی ہوں۔" 
حمنہ اپنی نئی فراک دیکھ کر خوشی کے مارے پھولے نہیں سمائی۔ 
صالحہ نم آنکھوں سے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھ رہی تھی, اور اس کے ابا اسے.....
"اماں! میں آپی کے لیے بھی سوٹ لائی ہوں۔ وہ جب اپنے سسرال سے ہم سے ملنے آئیں گی, تو آپ ان کو دے دینا
صالحہ نے اپنی ماں سے کہا۔ جو اپنی بیٹی کی محنت, لگن اور نیت کے خلوص کو دیکھتے ہوئے, یہی سوچ رہی تھی, کہ لوگ کیوں بیٹیوں کو بوجھ کہتے ہیں؟ یہ تو چھوٹی عمر سے ہی والدین کا بوجھ بانٹنے لگ جاتی ہیں۔ 
صالحہ نے اپنے کام کو جاری رکھا اور رمضان کے اس با برکت مہینے میں ہی اسے تین چار گھروں میں اپنے کام کو اور پروان چڑھانے کا موقع مل گیا۔ 
"اماں! مجھے کبھی کبھی لگتا ہے, کہ کہیں میرا یہ صنف آہن بننے کا سفر ابا کو مجھ سے بد گمان نہ کر دے۔"
عید کے دن جب اس کے ابا عید کی نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے, تو اس نے اپنی اماں سے کہا۔ تھی تو آخر کار بیٹی ہی۔ وہ اپنے ابا سے اپنے لیے تعریفی کلمات سننے کی خواہشمند تھی۔ اور جیسے اس کی یہ خواہش اللہ رب العزت نے پوری بھی فرما دی۔ اور اس کے دماغ میں جنم لیتے تمام اوہام اس ایک جملے سے مٹ گئے, جو اسے اپنے پیچھے سے اپنے ابا کی تشکر آمیز آواز میں سنائی دیا, کہ:
"عید مبارک صنف آہن!" 
 از قلم: ہانیہ محمود

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں