طیبہ یعقوب افسانچہ برائے مقابلہ
نُورِ نظر۔۔۔۔۔۔ نوررررر میری بچی کہاں ہو
جی اماں! بس آئی
شاویز اور دل آویز کو تیار کررہی ہوں سکول کیلئے
چلو چلو شاباش لیٹ ہورہا ہے
آپی جب ہم سکول سے واپس آئیں گے تو آپ ہمیں چاکلیٹ دیں گی نا؟۔۔۔ شاویز نے معصومیت سے سوال کیا
اچھا بابا ٹھیک ہے پکا دوں گی
جی اماں! میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے مجھے چائے کی ایک پیالی بنا دو بس۔۔۔۔
جب سے ابا ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں تب سے آپکا سر درد نہیں رک رہا آپکو کئی بار کہا ہے ہمارا اللّٰہ مالک ہے آپ فکر نہ کیا کریں
نور نظر ماں کو دلاسہ دے کر کچن کی طرف چل دی
میری بچی اکیلی سارا دن روزہ رکھ کر لوگوں کے بدن ڈھانپنے کیلئے کپڑے سلائی کرتی رہتی ہے
بچوں کو پڑھاتی ہے ہمارا پیٹ پالنے کیلئے
مگر نیاز میاں کو ذرا شرم نہ آئی دوسری شادی کرتے ہوئے کہ میرے تین بچے ہیں، جوان بچی ہے کل کلاں کوئی اچھا رشتہ کہاں سے آئے گا ہمارے گھر
آہ ہمارا بھی رب وارث ہے
نورنظر بہت معصوم شریف اور محنتی لڑکی تھی
اسکی جی جی کرتی زبان پر سب فدا تھے
وہ اپنی محنت کے بل بوتے پہ ہی کامیاب تھی
محلے کی ساری عورتیں اسی سے کپڑے سلائی کرواتی تھیں
۔
۔۔
۔
یہ رہی آپکی چائے
نور نظر چائے کی پیالی پاس ہی پڑی چھوٹی میز پر رکھتے ہوئے بولی...
اماں آپکو پتا ہے میں نے ایک عنوان میں حصہ لیا ہے بس آپ دعا کریں میں جیت جاؤں
سارا دن تو مشین پہ بیٹھی رہتی ہو پھر بچوں کے ساتھ سر کھپاتی ہوں اور رات کو کہانیاں لکھنے بیٹھ جاتی ہو
کچھ خود بھی آرام کرلیا کرو۔ میری جان! بس میں چاہتی ہوں کسی اچھے گھرانے سے رشتہ آجائے تمہارا اور تم اپنے گھر چلی جاؤ
اماں کیا ہوگیا ہے آپکو ابھی تو میں نے بہت کچھ کرنا ہے
شاویز کو بڑا افسر بنانا ہے اور دل آویز، دل آویز کو تو میں ڈاکٹر بناؤں گی ان شاءاللہ
اور آپ میری شادی کو نہ سوچا کریں اتنا اور اتنے اونچے خواب نہ دیکھا کریں کہ کسی بڑے گھر سے رشتہ آئے گا ۔۔۔۔ اس کچے مکان میں کوئی شہزادہ نہیں آئے گا جو آپکی بیٹی کو شہزادی بنا کر لے جائے
نہ میری بچی اتنی مایوسی والی باتیں نہیں کرتے
وہ رب بڑا رحیم ہے مجھے پوری امید ہے اس سے وہ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے
اماں وہ تو ٹھیک ہے لیکن!
یہ دنیا ہے یہاں کوئی کسی کا نہیں سوچتا نہ کسی کو سمجھتا ہے
اور لڑکیوں کو تو بلکل نہیں
اللّٰہ نے ہمیں بنایا تو صنفِ نازک ہے مگر یہ زندگی کے کڑے حالات صنفِ نازک سے صنفِ آہن بنا دیتے ہیں
دونوں ماں بیٹی کچے آنگن میں نیم کے درخت کے نیچے بیٹھیں دکھ سکھ بانٹ رہی تھیں
۔
۔
میں سمجھتا ہوں تمہیں
میں سوچتا ہوں تمہیں
میں تمہیں حالات کے حوالے نہیں ہونے دوں گا
تم صنفِ نازک ہی رہو گی
آدھے گھنٹے سے گھر کی دیوار سے کان لگائے ایمر باتیں سن رہا تھا
۔
۔
۔
وہ لڑکی ہمارے خاندان کی بہو نہیں بن سکتی۔
کیوں ماں صاحب!
کیا برائی ہے اس میں صرف یہی کہ وہ لوگ غریب ہیں وہ لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی ہے وہ محنت سے کماتی ہے اور اس سے اپنے گھر جا چولہا جلاتی ہے؟
جب خاندان والوں کو پتا چلے گا تو ہم کیا منہ دکھائیں گے ان کو؟
کوثر بیگم نے برہمی انداز میں کہا.....!
مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں
میری آپ سے گزارش ہے ماں صاحب!
ساری رات سوچنے کے بعد اگلے دن کوثر بیگم رضیہ بی کے ساتھ نور کے گھر چلی گئیں
کہاں آپ لوگ کہاں ہم لوگ، نور نظر کی والدہ نے نہایت بیچارگی سے کہا
بہن لوگ بڑے چھوٹے نہیں ہوتے
بس لوگوں کی سوچ بڑی چھوٹی ہوتی ہے
نور میرے بچے کی پسند ہے اور میں چاہتی ہوں میں جلد از جلد اسے اپنی بیٹی بناکر لے جاؤں
نور کی والدہ تشکر بھری نظروں سے دیکھے جارہی تھیں اور دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کررہی تھی کہ اچھا اور نیک رشتہ خود ہمارے گھر آیا ہے۔
ایمر حافظ قرآن تھا جبکہ نور نے ترجمہ وتفسیر کررکھا تھا
ایمر چاہتا تھا کہ نور جنت تک اسکی ساتھی بنے
نور نے جب یہ باتیں سنی اسکی آنکھوں میں نمی تھی وہ بس آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی
اور اپنے رب کی مصلحتوں کو دیکھ رہی تھی رب کہاں کہاں سے بندے کیلئے انتظامات کرتا ہے
بس بہن جی چاند رات کو ہم نکاح کیلئے آئیں گے ہمیں اپنی بچی دو کپڑوں میں چاہئے
ویسے بھی ہمارا گھر بھرا پڑا ہے سامان سے آپ نے کسی بھی چیز کیلئے پریشان نہیں ہونا
ایمر کی والدہ نے تو جیسے ان کے سر سے سارا بوجھ اتار دیا ہو
۔
۔۔
۔
۔
آپی آپی جلدی کریں مہمان آگئے ہیں
شاویز اور دل آویز شور کرتے ہوئے نور کے پاس آئے
آپ اتنا تیار کیوں ہورہی ہیں؟
وہ اس لئے میری جان کہ آج کی رات بہت خاص ہے
نور نظر نے دونوں کو بانہوں میں سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔
۔
۔
چاند کی مدھم روشنی نے اس کے پورے وجود کو روشن کردیا تھا
نکاح کے بعد وہ چھت پہ آگئی
آسمان کی طرف نظریں اٹھائے کئی بار اپنے رب کا شکر ادا کررہی تھی
اللّٰه آپ ایسے کسی کی زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں
وہ غور وفکر کررہی تھی اور اپنے رب سے کی گئی مناجات پوری ہونے پر دل کی باتیں کررہی تھی
ہاں ہمارا رب یوں کسی کی زندگی خوشیوں سے بھر دیتا ہے
ایمر نے دھیمے سے اسکے کان میں سرگوشی کی
آآآآآپ؟؟
چاند رات مبارک
پھر شرارتی لہجے میں کہا
اور ایڈوانس عید مبارک میری صنفِ آہن.
طیبہ یعقوب

بہترین تحریر لکھی گئی ہے
جواب دیںحذف کریں