ماہ پارہ افسانچہ برائے مقابلہ
وہ گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹی کو آواز دینے لگی "نمل۔۔۔نمل؟؟کہاں ہو ؟ارے ذرا ماں کو ایک گلاس پانی کا ہی پوچھ لو۔دن بھر کی تھکی ہاری ابھی لوٹی ہوں"نمل کمرے سے باہر آگئی ماں کو ٹھنڈا پانی دیا ۔
نمل !"فواد کدھر ہے؟گھر آیا ہے کہ نہیں"؟"نہیں ماں ابھی تک تو نہیں آیا۔صبح ناشتہ کر کے گیا تھا کہ کام ہے دھیر سے آوں گا ماں کو بتا دینا"اچھا ٹھیک ہے تم جاؤں روٹیاں ڈالوں میں ذرا یہ سامان رکھ کے ابھی آئی۔
دل آویز گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ماں ،باپ ،بہن بھائیوں کی چہیتی۔سب بہن بھائی دل آویز سے بہت پیار کرتے تھے ۔اس پر جان چھڑکتے تھے ۔ماں باپ تو اپنی چھوٹی بیٹی کے صدقے واری جاتی ۔دل آویز اپنی قسمت پر رشک کرتی تھی کہ اسے اتنے پہار کرنے والے لوگ مل گئے ہے ۔وہ اپنی زندگی میں بہت خوش تھی۔دل آویز کتابی کیڑا تھی ہر وقت پڑھائی کرتی رہتی ۔وہ ایک قابل لڑکی تھی۔میڑک اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد ابو سے اجازت لے کر کالج میں داخلہ لے لیا۔
دل آویز کی بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھی ۔وہ اپنے گھروں میں خوش تھی ۔اب دل آویز کی باری تھی ۔جوان تھی ،خوبصورت بھی اسلئے رشتے آنا شروع ہو گئے۔ماں باپ پریشان تھے کہ کس طرح دل آویز کو منائیں۔ایک دن وہ دل آویز سے بات کرنے لگے ،دل آویش نے صاف انکار کردیا"نہیں مماں مجھے ابھی پڑھنا ہے بابا پلیز نا مجھے ابھی شادی نہہں کرنی"بابا کی جان لیکن ایک نہ ایک دن تو ہمیں اس فرض سے سبکدوش ہو نا ہی ہے ۔بیٹا مان جاؤں اتنے اچھے رشتے بار بار نہیں آتے ۔لیکن دل آویز نہیں مان رہی تھی ۔لیکن امی نے منا لیا،اور دلآویز پیا دیس چلی گئی۔
گھر والے سب اس کے رخصت ہونے کے بعد خفا تھے لیکن اس کے ماں باپ خفا ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان اور فکر مند۔
دل آویز سے سجاد عمر میں کافی بڑے تھے ۔دل آویز سجاد سے بہت جھجھکتی تھی لیکن پھر رفتہ رفتہ وہ سنبھل گئی۔
دل آویز کو شادی کے چند ماہ بعد پتہ چلا کہ سجاد مالی لحاظ سے کمزور ہے اور وہ انتہائی عیاش بھی ہے ۔جس کا اسے بہت دکھ ہوا۔لیکن اب زندگی اسی کے ساتھ جڑی تھی اس لیے گزارا کرنا تھا ۔لیکن اس نے سجاد کو آمادہ کر لیا کہ وہ نوکری کرے گی۔ڈجاد نے جیسے ہی یہ سنا وہ جھوم اٹھا اسے اور کیا چاہیے تھا ۔ذب دل آویز نوکری کرنے لگی اور سجاد گھر بیٹھ کر بستر توڑنے لگا۔کھاتا پیتا اور آواراہ گردیاں کر کے گھر دیر سے لوٹتا۔
اس دوران دل آویز نے دو بچوں کو جنم دیا ۔اک بیٹا اور ایک بیٹی ۔اب زندگی اور بھی مشکل ہو گئی ۔دو بچوں کی کفالت فل آویز کے لیے بہت مشکل تھا ۔اس لیے اس نے ٹیوشنز پڑھانے بھی شروع کیے ۔اس طرعح شندگی کی گاڑی چلنے لگی ۔سجاد کو کینسر ہو گیا اور وہ کچھ ہی عرصے میں اللّٰہ کو پیارا ہو گیا۔
اب دل آویز کے لیے کھٹن مرحلہ تھا ،بچوں کے ساتھ ساتھ اس نے خود کی بھی حفاظت کرنی تھی ۔دل آویز نے ہمت نہیں ہاری وہ دن کو دفتر جاتی شام کو ٹیوشنز پڑھاتی اور رات کو کہانیاں،افسانے،شاعری ،ناولز لکھتی ۔مختلف رسالوں اور ڈایجسٹوں میں اس کی تحریریں شائع ہونے لگی جس سے وہ اور بھی مشہور ہونے لگی ۔اب وہ بہت سا رقم گھر بیٹھے اپنی تحریروں سے بھی وصول کرنے لگی۔دل آویز نے دن رات ایک کر کے اپنے بچوں کو بڑا کر دیا اور انہیں اچھی تعلیم دی ۔
اب اس کی صحت جواب دینے لگی ۔سارا جسم درد سے چور چور تھا ۔لیکن اب بھی اسے اپنے بچوں کی فکر تھی ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا تھا
فل آویز کی بیٹی نمل اچھی بچی تھی لیکن بیٹا سارا باپ پہ گیا تھا جس کو دیکھ کے دل آویز کو دکھ ہوتا ۔وہ اسکو سمجھاتی لیکن جوان خون تھا سختی کرنا الٹا مہنگا پڑ سکتا تھا اس لیےوہ خاموش تھی۔نمل پڑھایئ میں بھی اچھی تھی اور گھر کے کام میں بھی اپنی ماں کا ہاتھ بٹھاتی ۔
جب دل آویزکا جسم جواب دینے لگا تو اس نے ڈاکٹر کو دکھایا ۔اس نے ٹیسٹ لکھ کے دے دیے۔ٹیسٹ کرنے کے بعد دل آویز کو پتا چلا کہ دل کے تین والز بند ہے جس کا فوری آپریشن کرنا ہے ۔
دل آویز نے جیسے ہےی رپورٹ دیکھی وہ سکتے میں آگئ ۔یہ کیسے اچانک میں تو بلکل ٹھیک تھی لیکن ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مسلہ ابھی درپیش نہیں آیا یہ آپ کے ساتھ بہت پہلے سے تھا ۔تب جب آپ کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی ۔تمہارے والد میرے دوست تھی اس سلسلے میں اس نے مجھ سے بات کی تھی لیکن اس وقت بھی آپریشن تھا لیکن تمہارے والد صاحب تم سے بہت پیار کرتے تھے اسلیے وہ تم کو کھونا نہیں چاہتے تھے اس نے یہ بات سب سے چھپائی۔اور دوائیوں ں سے کام چلاتا رہا تاکہ تمہیں جان کے تکلیف نہ ہو۔
اب دل آویز کی سمجھ میں آیا کہ کیوں سب اس کا اتنا خیال رکھتے تھے اور کیوں بابا نے اس کی شادی ایسے شحض سے کی کیونکہ اس نے سجاد جو تمام باتیں بتا دی تھی اس لیے وہ راضی ہوا تھا۔دل اویز کی آنکھوں سے آنسوں روانہ ہویے ۔اس نے یہ بات اپنے بچوں سے چپھائ کیونکہ عید کو دو دن رہ گیے تھے اور ایسے میں بچوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ بازار گیی اور اپنے دونوں بچوں کے لیے عید کی خریداری کی اور گھر آگئی اس کے جتنے دن تھے زندگی کے عوہ اپنے بچوں کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔یہی اس جی آخری خواہش تھی۔
وہ اسی سوچ میں بستر پہ لیٹی لیٹی سو گئی ۔صبح اپنی بیٹی کی اوازوں پہ آنکھ کھلی"۔مماں عید مبارک ۔۔مماں دیکھو میں نے صنف اہن ڈایجسٹ کی لیے افسانہ لکھا تھا شایع ہو چکا ہے ۔وہ خوشی سے چیخ اٹھی"عید مبارک صنف آہن"
عنوان:عید مبارک صنف آہن
از قلم :ماہ پارہ

ماشاءاللہ ۔ اچھی تحریر لکھی ہے۔
جواب دیںحذف کریں