کوئی تو سمجھے
صنف : غزل
از قلم: مہوش بنت ناظم
صحرا اے دل میں کہیں گم سے ہیں ہم
کوئی تو راہ ہمسر تلاشے ہم کو
کوئی تو سمجھے آن کہی باتوں کو
کوئی تو جانے ان دل کے چھپے رازوں کو
کوئی تو سنے تنہائی کی سسکیوں کو
کوئی تو پونچھے آبر کی بوندوں میں گرتے آنکھوں کے متعبر پانی کو
کوئی تو محسوس کرے اس چلتی فضا اڑتی ہوا میں ہماری سانسوں کو
کیا یونہی کٹ جائے گی یہ زندگانی
کوئی نہیں سمجھ پاۓ گا ہماری کہانی
کیا کوئی نہیں بچا پائے گا ان وحشتوں سے
ہاے کوئی تو سمجھے میرے درد دل کی داستاں کو
کوئی تو نکالے اس بیاں با جہاں سے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں